Wo Larki Jo Sub Se Alag Hai by Ayesha Zulfiqar Novel Complete Pdf


Wo Larki Jo Sub Se Alag Hai by Ayesha Zulfiqar Complete Online Urdu Novel in Pdf based on Family, Difference Between Arrange Marriage and Forced Marriage Based and Social Romantic based Urdu Novel Downloadable in Free Pdf Format and Online Urdu Novels Reading in Mobile Free Pdf Complete Posted on Novel Bank.

Ayehsa Zulfiqar also written many famous urdu novels in pdf. Ek Sham Tum Par Udhar Thi by Ayesha Zulfiqar Age Difference Based Novel and Teri Qurbatain Meri Shiddatain by Ayesha Zulfiqar Novel.

Novel Bank website present a best urdu novels in different catagories like joint family based novels download pdf, friendship based novels in pdf and urdu romantic novels free pdf download.

The website contains best romantic novels in urdu PDF form; the same goes for other genres.

This website is heaven for avid readers as they can not only download urdu novels in pdf but can easily read urdunovels online and top 10 urdu romantic novels.

The Urdu Novel Bank website contains the best layout and is relatively easy to use, even for an amateur. It has the best urdu novels collection, which include all the genres. Pdf free download novels.

اکثر پڑھی لکھی لڑکیاں خود پر اتنا ظلم برداشت نہیں کرتیں، لیکن ولید احمد اس کا چناؤ تھا۔ محبت کا چناؤ اور اس نے اس چناؤ کو آخری دم تک نبھایا۔

اور ہمارے معاشرے میں بہت ساری لڑکیاں اپنا رشتہ یونہی نبھاتی ہیں، کبھی محبت کی خاطر، کبھی بچوں کی خاطر، کبھی غریبی کی خاطر، کبھی بوڑھے ماں باپ کی خاطر۔

 کوئی نا کوئی، کسی نا کسی مجبوری کے تحت اپنا رشتہ نبھا ہی رہی ہے۔ بہت کم ایسی ہوتی ہیں جو سٹینڈ لیتی ہیں۔ سٹینڈ لینا بھی چاہیے۔

کیونکہ ظلم برداشت کرنا بھی ظالم کا ساتھ دینا ہی ہے۔ مبرا نے سٹینڈ اس لئے بھی لیا کہ اس کی فیملی اس کے ساتھ تھی ورنہ ایسا نہیں ہوتا۔ اکثر نہیں ہوتا، فیملیز اس حد تک ساتھ نہیں دیتیں۔ سب کی اپنی اپنی مجبوریاں ہوتی ہیں۔

مبرا جیسی لڑکیاں بہت ہیں اور شائد ہمارے معاشرے کے ہزاروں، لاکھوں گھر اس جیسی لڑکیوں کے صبر سے ہی آباد ہیں اور کئی ایسی بھی ہیں جو اتنا صبر نہیں کر پاتیں، سمجھوتے نہیں کر پاتیں۔ جیسے روحاء مغل، اسے اکثر نے بدتمیز کہا، منہ پھٹ کہا، ہٹ دھرم کہا، تو کیا کریں؟ جو ضدی ہو وہ کیا کرے؟

ایسا نہیں ہے کہ روحاء جیسی لڑکیاں سمجھوتے نہیں کرتیں۔ لیکن بس وہ ایک حد تک صبر کر پاتی ہیں، روحاء نے بھی کیا لیکن اس قدر صبر اور سمجھوتہ لڑکی تب کرے جب شوہر کے پاس بجٹ نا ہو۔

مروان مرزا۔۔ اس کے پاس سب کچھ تھا، وہ بس اپنی بزدلی کی وجہ سے پھنس گیا اور معاشرہ بھرا پڑا ہے ایسے مردوں سے جو اپنے بیوی بچوں کو پس پشت ڈال کر ساری عمر بہن بھائیوں کو پوجتے رہتے ہیں لیکن نام پھر بھی نہیں ہوتا۔ وہی بہن بھائی دودھ میں سے مکھی کی طرح نکال دیتے ہیں، مصیبت میں کوئی ساتھ نہیں دیتا۔

اور رہ گیا ولید احمد، تو اس جیسا شیطان خدا کسی بیٹی کا نصیب نا کرے، بہت ہیں اس جیسے بھی جن کا انت جہنم ہی ہوتا ہے۔


Or

Post a Comment

0 Comments