Jalti Barish by Huria Malik Complete Pdf Novel Download


Complete Urdu Novel in Pdf Jalti Barish by Huria Malik Pdf Novel Based On Vani, Revenge Based, Cousin Based, Pathan Family Based and Most Romantic Urdu Novel Free Pdf Download. download urdu novels and free urdu novels pdf Complete Posted on Novel Bank.

Novel   : Jalti Barish
Writer : Huria Malik
Theme : Vani, Cousin, Revenge, Most Romantic
Status  : Complete
Pages   : 1013
Format: PDF
Website: Urdu Novel Bank 

Urdu Novel Bank gives you to read famous urdu novels free pdf, best urdu novels list, romantic urdu novels list, romantic novel in pdf, romantic Urdu novels, read urdu novels online, romantic urdu novels download, urdu pdf, hot and bold urdu novels pdf, bold romantic urdu novels, famous urdu novels, best urdu novels pdf download, Urdu Novelette, Afsany and many more interesting urdu stories in pdf.

جو کچھ ہو چکا ہے اسے بھول جائیں کہ گزرے ہوئے پل تکلیف دیں گے اور ان تکلیف دہ پلوں کے لیے مجھے معاف۔۔۔۔۔آہ۔۔۔ وہ نرم لہجے میں بول رہی تھی جب اس نے اپنی گرفت مزید سخت کرتے ہوئے اسے آگے بولنے سے روکا تو اس نے بے ساختہ چہرہ اس کے سینے سے اٹھاتے ہوئے اس کی جانب دیکھنا چاہا۔

معاف آپ کو تبھی کر چکا تھا جب آپ کو واپس حویلی لے کے آیا تھا، ابھی فقط مجھے منائیں۔۔۔ اس کی آواز جذبات و احساسات کے باعث بھاری ہوتی اس کی دھڑکنیں بڑھا رہی تھی۔

یہ سب اہتمام آپ کو منانے کے واسطے ہی کیا ہے۔۔۔ وہ شرمگیں لہجے میں بولتی اس کے شرٹ کے کھلے اوپری بٹن سے کھیلنے لگی تو اس کے اس اندازِ دلربائی پہ وہ خود پہ ضبط کھوتا اس کے چہرے پہ جھکتا اس کے گالوں سے چھلکتے سرخ رنگ کو مزید گہرا کرنے لگا۔

آپ کے انداز اور آنکھوں کے حسین رنگ مائل بہ محبت لگ رہے ہیں۔۔۔ شریر لہجے میں کہتے ہوئے وہ اس کے لپ اسٹک سے سجے ہونٹوں کے اوپر اپنے لب جما گیا تو اس کے لمس اور مونچھوں کی چبھن پہ وہ بے ساختہ کسمسائی۔

شہریار!۔۔۔ اس کی احتجاجی آواز بے ساختہ ابھری تو شہریار نے سرخ نگاہوں سے اس کا سرخ چہرہ دیکھا۔

مجھے روکنے کی کوشش مت کیجیے گا کہ آج میں آپ کو اس احساس کے ساتھ محسوس کرنا چاہتا ہوں کہ اس سفر کا اکیلا میں ہی مسافر نہیں ہوں بلکہ آپ بھی میری ہمقدم ہیں۔۔۔ خوبصورت انداز میں کہتے ہوئے وہ اس کی ٹھوڑی پہ اپنا لمس چھوڑ گیا۔

ان کو یوں سجانے کی تو ضرورت ہی نہیں تھی کہ یہ تو تب تب دلکش محسوس ہوتے ہیں جب جب یہ میرا نام پکارتے ہیں۔۔۔۔ بے باک انداز و معنی خیز لہجے میں بولتے ہوئے وہ اس کے چہرے پہ جھکتا اس کی سانسوں پہ قابض ہوا تو فرشتے کی گرفت اس کے کالر پہ سخت ہوتی اس کو مزید بہکانے لگی۔


Post a Comment

1 Comments

Thanks for feedback