Dil e Jana by Haram Shah Novel Complete Pdf Free Download


Complete Online Urdu Novel in Pdf Free Download and Online Read Urdu Novel Dil e Jana by Haram Shah Pdf Novel Based On Age Difference, Rude Hero, Pathan Family Based, Army Based, Innocent Heroin and Romantic Love Story Based Free Urdu Novels Pdf. Urdu Novels Online Reading in Mobile. Download Urdu Novels. Dil e Jana Novel Complete Pdf Posted on Novel Bank.

Dil e Jana Novel Sequence of Manzil e Ishq novel by Haram Shah

تم اس شادی سے خوش کیسے ہو سکتا ہے مرجان تمہارا باپ تمہارا شادی ایک سفاک درندے سے کر رہا ہے جس کے دل میں ہر ایک کے لیے بس نفرت ہے۔۔۔۔

کمرے سے آنے والی آواز پر ویرہ کے قدم رکے اور اس نے کھڑکی میں سے اس ماں کو دیکھا جو صدمے کی حالت میں اپنی سولہ سالہ بیٹی کو بتا رہی تھی جبکہ وہ بیٹی اپنے باپ کے حکم پر خوشی خوشی نکاح کے لیے تیار ہو رہی تھی۔

اپنی اور اسکی عمر کا فرق دیکھو پندرہ سال بڑا ہے وہ تم سے۔۔۔۔اور تم۔۔۔۔تم کیسے کر سکتا ہے اس سے شادی مرجان کیسے۔۔۔۔

اس بے بس ماں نے روتے ہوئے کہا اور ویرہ چاہ کر بھی وہاں سے جا نہیں سکا۔وہ اس بارے میں اپنی ہونے والی بیوی کا جواب سننا چاہتا تھا۔

مجھے وہ پسند ہیں اماں۔۔۔۔اپنی ہر خامی کے ساتھ مجھے پسند ہیں۔۔۔

مرجان نے ایک شرمیلی مسکراہٹ کے ساتھ کہتے ہوئے پٹھانی بڑی سی ماتھا پٹی اپنے سر پر لگائی جبکہ اسکی بات پر باہر کھڑے ویرہ نے اپنی مٹھیاں غصے سے بھینچ لیں۔

پاگل ہو گیا ہے مرجان۔۔۔وہ آدمی کبھی پیار نہیں کرے گا تجھ سے نفرت ہے اسے ہر ایک انسان سے۔۔۔۔ویرہ ہے وہ جانتی ہے ویرہ کسے کہتے ہیں دہشت کو اور وہ بس دہشت ہے اسکے سوا کچھ نہیں۔

اسکی ماں نے روتے ہوئے اسے سمجھایا لیکن مرجان کے چہرے کی مسکان جوں کی توں تھی۔اس نے چھوٹے سے شیشے میں اپنا خوبصورت پٹھانی حسن شرما کر دیکھا تھا۔

کوئی بات نہیں میری محبت انہیں مجھ سے محبت کرنے پر مجبور کر دے گی دیکھنا اماں وہ میری ہی محبت ہو گی جو ان کو سب سے محبت کرنے پر مجبور کرے گی۔

مرجان نے بھرپور یقین سے کہا اور باہر کھڑے ویرہ کی بس ہوئی تھی۔وہ جھٹکے سے دروازہ کھولتا چھوٹے سے کمرے میں داخل ہوا اور مرجان کو گھورنے لگا جو ہڑبڑا کر اسے دیکھ رہی تھی۔

مجھے مرجان سے اکیلے میں بات کرنی ہے آپ باہر جائیں۔۔۔

ویرہ نے کہا تو مرجان کی ماں سے تھا لیکن اسکا سارا دھیان مرجان پر تھا۔وہ ماں نہ چاہتے ہوئے بھی کمرے سے باہر نکل گئی۔ان کے قبیلے میں کہاں عورت کو کوئی اہمیت حاصل تھی۔

کیا بکواس کر رہی تھی تم بہت خوش ہو مجھ سے شادی ہونے پر؟

ویرہ کے غصے سے پوچھنے پر وہ لڑکی سہم کر دو قدم پیچھے ہوئی تھی لیکن پھر اس نے ہمت کرنے کا فیصلہ کیا۔آخر کار وہ مرد اسکی چاہت تھا اسکا ہونے والا شوہر۔

Post a Comment

0 Comments