Hubb e Aneed by Wahiba Fatima Online Urdu Novel Episode 23 Posted on Novel Bank.

مناہل کی صبح آنکھ کھلی تو خود کو اس دشمن جاں کے کمرے میں اس کے بیڈ پر پایا۔ آہٹ پر دائیں جانب دیکھا تو وہ واش روم سے فریش ہو کر باہر نکلا اور اس کی جانب ہی دیکھ رہا تھا۔ 

اس کی نگاہوں کا ارتکاز ایسا تھا کہ مناہل نے فورا نگاہ پھیری تھی اور آہستگی سے اٹھی۔ 

اب طبیعت کیسی ہے،،، وہ ٹاول صوفے پر رکھتا اس کے قریب چلا آیا۔ مناہل نے جواب نہیں دیا تھا۔ بلکہ آہستگی سے بیڈ سے اتری۔ 

منوو میں نے کچھ پوچھا ہے،، وہ ناراضگی سے بولا تھا۔ 
میں جواب دینا ضروری نہیں سمجھتی،،، مناہل نے جھلا کر کہا تھا۔ 

کیوں،،، اس نے اسے اپنی جارحانہ گرفت میں لیا تھا۔ اور کب تک چلے گا یہ سب،،، 
مرتضیٰ نے اس کا چہرہ اپنی جانب گھما کر پوچھا تھا۔ 
جب تک وہ یہاں سے چلی نہیں جاتی،،، وہ بھی لگی لپٹی رکھے بغیر بولی تھی۔ مرتضیٰ شریر سا مسکرایا۔ 

تو میں یہ سمجھوں کہ میری جان،، میری بزدل چوہیا جیلس فیل کر رہی ہے،، وہ شرارت بھرے انداز میں بولا تھا۔ 

جائیں مرتضیٰ اپنا کام کریں،، پلیز میرا دماغ مت کھائیں،، وہ جھنجھلا کر بولی تھی۔ 

میرا ارادہ تو تمھیں پوری کو کھانے کا ہے،،، صرف اس ناکافی بھیجے سے میرا پیٹ نہیں بھرے گا،،، وہ اب اسے تپا رہا تھا۔ اپنی مونچھیں جان بوجھ کر اس کی گداز پھولی سی گال پر رب کی۔ جانتا جو تھا وہ چڑتی ہے ان سے۔۔

نا کافی بھیجے سے کیا؟ مطلب کیا ہے آپ کا ؟؟؟ وہ تلملائی تھی۔ مرتضیٰ نے اس کے پورے چہرے کو چوما تھا۔ 

کچھ نہیں میری جان کے ٹوٹے،، بس اپنا خیال رکھنا ،، اسے آج روانہ کر دوں گا یہاں سے،، بے فکر ہو جاؤ میری جان،،، وہ اس کے ماتھے پر لب رکھتا بولا تھا۔ 

چلو ناشتہ کرو میرے سامنے،،، وہ اس کا ہاتھ تھامے کچن میں آیا جہاں شبانہ ناشتہ بنا کر ان کا انتظار کر رہی تھی۔ دونوں نے ناشتہ کیا۔ مناہل منہ بناتی رہی ۔ مگر قلب نے اسے زبردستی کھلایا پلایا۔ 

جا رہا ہوں میری جان،، جلد لوٹوں کا اپنا اور میری جونئیر چوہیا کا خیال رکھنا،،، 
وہ شبانہ کے سامنے ہی جھک کر ایک مرتبہ پھر اس کے ماتھے پر لب رکھ گیا۔ 
مناہل سٹپٹائی۔جب کہ وہ دانتوں تلے لب دباتا وہاں سے کھسک گیا۔ 

بے شرم کہیں کے،، وہ جھنجھلائی۔ جبکہ شبانہ قہقہ لگا کر ہنس پڑی۔ مگر اس کے گھورنے پر ہنسی کو بریک لگی۔۔ 

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

منیہا رو رو کر ہلکان ہو چکی تھی۔ راحم آفس سے لیو لے کر گھر آ گیا تھا۔ راحیلہ بیگم کی طبیعت خراب تھی۔ حیات صاحب نے انھیں سب سچ سچ بتا دیا تھا ۔ اسی وقت سے ان کی طبیعت اب خراب ہوئی تھی۔ اور اب راحم شرمندہ سا اسے لئے لاہور جا رہا تھا۔ 

منیہا کچھ نہیں ہوگا آپی کو،، پلیز یار چپ کرو،، راحم نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے تسلی دی۔ 

تھکا دینے والے سفر کے بعد وہ لاہور پہنچے تھے۔ اور سیدھا راحیلہ کے گھر ہی آئے تھے۔ اور اب وہ راحیلہ بیگم کے سرہانے سے لگی بیٹھی تھی۔ سارے کمرے میں موجود تھے۔ اب راحیلہ بیگم کی طبیعت کافی بہتر تھی۔ 

منیہا تمھارے ساتھ یہ کیا کیا راحم نے،،، مجھے اس سے یہ امید ہر گز نہیں تھی،، تم چاہو تو الگ ہو سکتی ہو اس سے،،، میں اپنی بچی کو پل پل تڑپتے نہیں دیکھ سکتی،،، 
راحیلہ بیگم یہ بول کر رو پڑیں۔ منیہا نے ان کے دونوں ہاتھ تھامے۔۔

امی ایسی کوئی بات نہیں ہے،، میں بہت خوش ہوں راحم کے ساتھ،، اگر ایسی کوئی بات ہوتی تو مجھے بابا ہی نہیں بھیجتے راحم کے ساتھ ،، جو کچھ بھی ہوا وہ ایک وہ ایک غلط فہمی کی وجہ سے ہوا،، جو عنقریب انشاء اللہ بلکل ٹھیک ہو جائے گا،،، آپ بلکل فکر مت کریں امی،، آپ تو میری آنکھوں سے میری پریشانی جانچ لیتی ہیں ناں تو دیکھیں میری طرف،،میں کوئی پریشان لگ رہی ہوں؟

منیہا نے ان کا چہرہ اپنی جانب گھما کر ان کی آنکھوں میں دیکھا۔ اور منیہا کی آنکھوں میں سکون دیکھ کر وہ بھی پرسکون ہو گئیں۔ 

راحم جو شرمندہ سا ایک جانب کھڑا تھا آگے بڑھا اور ان کے سامنے اپنے ہاتھ جوڑ دئیے۔ 
راحیلہ آپی مجھے معاف کر دیں،،، 
راحیلہ بیگم نے تیزی سے اس کے ہاتھ تھام لیے۔ 

نہیں میرے بچے ،، اگر منیہا تمھارے ساتھ خوش ہے،، تو مجھے بھی تم سے کوئی گلہ نہیں،،، 
انھوں نے کہا تو راحم نے عقیدت سے ان کے ہاتھ چوم لیے۔ 

ارے کوئی نہیں،،اچھے وقت پر آئے تم لوگ،،کیونکہ ہم تو ویسے بھی بلانے ہی والے تھے تم لوگوں کو آج صنم کا نکاح ہونے والا ہے،، 
زہرہ بیگم نے مسکرا کر بتایا تو راحم اور منیہا کو حیرت ہوئی۔ جبکہ اب صنم گھبرا کر جلدی سے کچن کی جانب چلی گئی تھی۔ 

واہ امی،، کیا خبر سنائی ہے آپ نے،، مگر کون ہے ،،کس سے ہوگی صنم آپی کی شادی،، واؤ ڈیٹس گریٹ،،، 
منیہا خوشی سے اچھل پڑی اور زہرہ بیگم کے گلے میں جھول گئی۔ سب اس کی جانب دیکھ کر مسکرائے۔ 

ارے علی عباس سے،، میرا بھانجا جو بیرون ملک سے آیا تھا،، تم تو جانتی ہو اچھی طرح،،، 
زہرہ بیگم نے اسے یاد دلایا۔ 

ارے ،، عباس بھائی،، ایم سو ہیپی،،، 
وہ کہتی باہر بھاگ گئی۔ سب اس کے بچپنے پر ہنس دئیے۔ 

دو ماہ پہلے جب زہرہ بیگم کا بھانجا باہر سے آیا تھا تب منیہا اچھی خاصی اس سے مانوس ہو گئی تھی۔ وہ راحم کی وجہ سے اسے بلکل اپنی چھوٹی بہنوں کی طرح ہی ٹریٹ کرتا تھا۔ حیات صاحب نے بھی یونہی راحم کو جلانے کو منیہا کے رشتے کی بات بول دی تھی۔ جبکہ وہ تو ایسا سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ پھر جب ایک دو دفع صنم منیہا سے ملنے اس کے گھر آئی تو عباس نے اسے دیکھتے ہی اپنے لیے پسند کر لیا۔ وہ تو اتنا نیک تھا کہ اسے صنم کی پہلی شادی ٹوٹنے پر بھی کوئی اعتراض نہیں تھا۔ اور خدا کی کرنی سے ان دو ماہ کے اندر اندر رشتہ پکا ہو گیا۔ اور آج اس کا نکاح تھا۔ 


Online Reading